سوچ کا کھیل!
قیصر رونجھا

دوستو!

کل رات میں نے DeepMind کی نئی ڈاکیومنٹری “The Thinking Game” دیکھی، اور سچ بتاؤں تو دل و دماغ دونوں ہل گئے۔ یہ صرف اے آئی کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک ایسے شخص کا سفر ہے جو آج کی سب سے بڑی سائنسی تبدیلی کے پیچھے کھڑا ہے: ڈیمس ہاسابس۔ جنونی لوگ کیسے کام کرتے ہیں، کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر یہ سیکھنا چاہتے ہیں تو ضرور دیکھیے۔

اگر آپ ڈیمس ہاسابس کو نہیں جانتے تو میں بتا دیتا ہوں۔ یہ جو جیمنائی اور الفا فولڈ بنانے والی کمپنی ہے ڈیپ مائنڈ، یہ انہی کی ہے۔ سترہ سال کی عمر میں ان کو گیم بنانے والی کمپنی نے ایک ملین پاؤنڈ کی آفر کی کہ ان کے پاس ہی کام کریں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد بڑا ہے۔ وہ صرف گیمز نہیں بنانا چاہتے تھے۔

دو ہزار چوبیس میں ڈیمس ہاسابس کو کیمسٹری میں نوبل انعام بھی ملا ہے — الفا فولڈ کی وجہ سے جس نے پروٹین فولڈنگ کا مسئلہ حل کیا۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی اے آئی پر کام کرنے والے سائنسدان کو نوبل انعام ملا۔ یہ شخص صرف ٹیک entrepreneur نہیں ہے۔ یہ ایک سائنسدان، وژنری، اور وہ انسان ہے جس نے اپنی پوری زندگی ایک بڑے سوال کے جواب پر لگا دی: “کیا ہم ایسی مشینیں بنا سکتے ہیں جو انسان کی طرح سوچیں اور انسانیت کے بڑے مسائل حل کریں؟”

سوچیے ایک بچہ جو چار سال کی عمر میں شطرنج کھیلنا شروع کرے، اور تیرہ سال کی عمر میں پورے برطانیہ کا نمبر ون جونیئر چیمپئن بن جائے۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ڈیمس کے اندر کچھ اور بھی تھا، کچھ ایسا جو شطرنج کی بساط سے بہت بڑا تھا۔

ڈاکیومنٹری میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ورلڈ چیس چیمپئن بن سکتا تھا، لیکن اس نے وہ راستہ چھوڑ دیا۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ شطرنج میں ایک حد ہے، ایک سیلنگ ہے۔ اس کا ذہن بڑے سوالات پوچھ رہا تھا: “انسانی دماغ کیسے سیکھتا ہے؟ کیا ہم مشینوں کو بھی ایسے سوچنا سکھا سکتے ہیں؟”

پھر سولہ سترہ سال کی عمر میں جب باقی بچے اسکول کے پیپرز دے رہے ہوتے ہیں، یہ لڑکا ویڈیو گیم انڈسٹری میں کود گیا اور مشہور گیم تھیم پارک ڈیزائن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ بھی ایک پڑاؤ تھا، منزل نہیں۔

اصل موڑ تب آیا جب ڈیمس نے فیصلہ کیا کہ اگر واقعی انٹیلیجنٹ مشینیں بنانی ہیں تو پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے کیمبرج سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری لی اور پھر یونیورسٹی کالج لندن سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی کی۔

پھر دو ہزار دس میں اس نے ڈیپ مائنڈ کی بنیاد رکھی۔ مقصد کیا تھا؟ صرف کوئی اچھا سافٹ ویئر یا ایپ بنانا نہیں۔ ان کا خواب تھا آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس — ایسی مشینیں جو انسان کی طرح سوچ سکیں، سیکھ سکیں اور دنیا کے پیچیدہ ترین مسائل حل کر سکیں۔

ڈاکیومنٹری میں سب سے دلچسپ حصہ دو ہزار سولہ کا ہے جب ڈیپ مائنڈ کے الفا گو نے دنیا کے عظیم ترین گو پلیئر لی سیڈول کو شکست دی۔ آپ کو شاید معلوم نہ ہو لیکن گو ایسا گیم ہے جس میں شطرنج سے کہیں زیادہ ممکنات ہیں۔ لیکن الفا گو نے صرف حساب نہیں لگایا — بلکہ انٹیوشن اور کریئیٹیویٹی دکھائی۔

چائنا کے پلیئر Ke Jie کا میچ، لائیو براڈکاسٹ کا بند ہونا، اور Ke Jie کا متاثر ہو کر رو پڑنا — یہ سب لمحے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اے آئی انسانی ذہانت کو واقعی چیلنج کر رہی ہے۔

لیکن اصل گیم چینجر الفا فولڈ تھا۔ اس نے پچاس سال پرانا پروٹین فولڈنگ کا مسئلہ حل کر کے میڈیسن، بائیولوجی اور ڈرگ ڈویلپمنٹ میں انقلاب برپا کر دیا۔

ڈیمس اور اس کی ٹیم ڈاکیومنٹری میں ایک بات پر زور دیتے ہیں: ای آئی طاقتور بھی ہے، خطرناک بھی۔ اس لیے ریگولیشن، سیفٹی اور ذمہ دارانہ ترقی بہت ضروری ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے — اگر ایک بچہ شطرنج سے شروع ہو کر دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تبدیلی کھڑی کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ اردو اے آئی کا مقصد یہی ہے کہ ہم عام لوگوں کو بھی AI کے فائدے، خطرات اور عملی استعمال سمجھا سکیں تاکہ ہر شخص باخبر ہو کر فائدہ اٹھا سکے۔

Ai Viewer

Ai Viewer

AI Viewer is your front-row seat to the world of artificial intelligence. We’re here to make sense of the fast-moving AI universe—with clear, insightful, and unbiased updates, explainers, and exper...

Ai for GCC

Ai for GCC

AI for GCC is a FREE newsletter uncovering how artificial intelligence is transforming business, innovation, and policy across the Gulf. Discover real opportunities, regional AI trends, and practic...

Reply

or to participate

Keep Reading

No posts found